مغربی تہذیب میں فلسفے کی روایت بہت پرانی ہے، اس کا آغاز قدیم یونان سے ہوا۔ فلسفہ لفظ قدیم یونانی زبان کے الفاظ سے نکلا ہے، “فل” یعنی محبت یا مانوس اور “سوفیا” یعنی دانش یا عقل، اس کے معنی علم و عقل سے محبت کے ہیں۔ مشرقی فلسفہ کی روایت کے برعکس، مغربی فلسفہ ایک نظم و ضبط کا حامل ہے۔ فلسفے کی چند بنیادی شاخیں ہیں اور ہر ایک شاخ میں کئی مکتب فکر۔

عام طور پر مغربی فلسفہ میں پانچ بنیادی شاخوں پر اتفاق کیا جاتا ہے: زیستی، اخلاقیات، منطق، جمالیات اور علمیات۔

زیستی فلسفہ زیست اور وجود پر سوال اٹھاتا ہے، زندگی کا اصل معنی کیا ہے؟ وجود کی حقیقت کیا ہے؟ کائنات کیا ہے؟ جبکہ اخلاقیات کا دائرہ علم زندگی گزارنے کے طریقے سے وابسطہ ہے، اچھائی کیا ہے؟ اچھائی اور برائی کا پیمانہ کیا ہے؟ منطق کا تعلق دینا اور خیالات کی تعریف سے ہے، سچ کیا ہے اور کیوں ہے، باطن کو حقیقت سے کیا الگ کرتا ہے۔ جمالیات کا فلسفہ حسن، لطافت, اور فن کے بارے میں ہے، حسن کا پیمانہ کیا ہے، فن کس کو کہتے ہیں اور لطف کیا ہے؟ اور علمیات کا فلسفہ علم بر بحث کرتا ہے، کیا علم خارجی دنیا کو سمجھنا ہے یا اندرونی خیال و نقطہ نظر کو بیرونی وجود پر منصوب کرنا؟ کیا علم کے الگ شعبہ جات ہیں یا علم ایک واحد حقیقت ہے؟

مغربی فلسفہ کا پہلا فلسفی

اکثر مورخین کا کہنا ہے کہ مغربی فلسفہ کا پہلا اصل فلسفی شہر ملٹس کا فلسفی تھیلئیس تھا، جس نے دینا کے وجود پر تبصرہ کیا۔ اس کے بعد جو فلسفہ آیا اس کو پانچ ادوار میں تقسیم کیا گیا۔ پہلا دور قدیم فلسفے کا تھا جو یونان اور روم میں تحریر کیا گیا، سقرات، افلاطون اور ارسطو (انگریزی میں سوکریٹیز، پلیٹو اور اریسٹوٹل) اسی دور کے فلسفی تھے۔ اس کے بعد روم کی سلطنت کے زوال کے ساتھ یورپ معاشی و معاشرتی پسماندگی میں ڈوب گیا اور عیسائیت پھیلنے لگی تو دوسرا دور شروع ہوا (قرون وسطی کا دور)، جس کا فلسفہ روحانیت، مذہب اور خدا کے تصور سے وابسطہ تھا۔ اس کے بعد یورپ میں علمی، فنی اور معاشرتی نوبیداری کا آغاز شروع ہوا۔ یورپ میں طاقتور ریاستیں وجود میں آئیں اور اس سب کے دوران مذہبی اقدار سے کنارہ کشی نے فلسفے کو مذہبی تصور سے نکال کر آزاد زاویے سے سوال اٹھانے پر مجبور کیا۔ اس دور کے فلسفے کا رجحان جمالیات کی طرف تھا۔

فلسفی افلاطون

اس کے بعد جدید دور کا آغاز ہوا، رینے دیکارٹس جیسے مفکروں نے فلسفے کا رجحان زیستی فلسفے کی طرف کیا اور وجود و ضمیر جیسے خیالات کو فلسفے سے جوڑا۔ اس دور کا فلسفہ سیاسی خیال میں بھی ملوث ہوا، اور اپنے دور کے اہم سوالات کے جواب دیئے جیسے ریاست اور فرد کا کیا تعلق ہے اور ریاست کے اختیارات کیا ہیں۔

اس دور کے بعد حالیہ دور کا آغاز ہوتا ہے، بیسویں اور اکیسویں صدی کا فلسفہ ریاست اور طاقت جیسے مضامین پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، جیسے نوم چومسکی اور سیمون ویل کے ریاست، آزادی اور جبر پر تحریرات۔ اس کے ساتھ ساتھ اخلاقیات اور جمالیات پر بھی حالیہ دور نے فلسفی کام شائع کیا ہے۔

رینے ڈیکارٹس، جدید دور کے پہلے فلسفی

یہ آرٹیکل مغربی فلسفہ پر اقسات میں سے پہلی قست ہے

Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *