ثاقب نثار کی حسین نقی سے بداخلاقی

ثاقب نثار کی حسین نقی سے بداخلاقی

November 21, 2018 0

حسین نقی–صحافت کی دنیا میں ایک جانا پہچانا اور قابل عزت نام

نومبر 17، ء2018 کو سپریم کورٹ لاہور میں پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن بورڈ کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی جس میں سینیر صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن، حسین نقی، بھی شامل تھے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ کہاں ہیں حسین نقی؟ جن کی وجہ سے جسٹس ریٹائرڈ عامر رضا نے استفعا دیا؟

دوران سماعت اونچی آواز میں بات کرنے پر چیف جسٹس صاحب برہم ہوئے اور نقی صاحب سے کہا کہ تمہاری جرات کیسے ہوئی؟ میں تمہیں توہین عدالت کا نوٹس دے دوں؟

جس کے جواب میں نقی صاحب نے کہا “میں آپ سے بیس سال بڑا ہوں میری مکمل بات سنیں۔” چیف جسٹس نے کہا تم “بدتمیز” آدمی ہو عدالت سے معافی مانگو۔ “میں عدالت سے معافی چاہتا ہوں” نقی صاحب بولے۔ جس کے جواب میں چیف نے کہا کہ نقی صاحب کو عدالت سے باہر لے جاو۔

چیف جسٹس کے رویے پر صحافی برادری کی برہمی

چیف جسٹس کا لفظ “بدتمیز” استعمال کرنا وہ بھی اتنے باعزت شخص کے لیے انتہائی غیراخلاقی ہے۔ اگر بدتمیز حسین نقی جیسے شخص کو کہتے ہیں تو یقینا ہم سب بدتمیز بننے کی کوشش کریں گے اور کہلانے میں بھی فخر محسوس کریں گے۔

نقی صاحب جو کہ اپنی جرات کی وجہ سے جانے جاتے ہیں اسی جرات کی وجہ سے حسین نقی صاحب نے آئین کا تحفظ کیا اور فوجی ڈکٹیٹر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر انسانی حقوق کے تحفظ کی جنگ لڑی ان کی عزت ہم سب کرتے ہیں اور عدالت بھی انصاف کے لیے بنی ہے نا کہ تضحیک کے لیے!

صحافی حسین نقی اپنی اس تضحیک کے لیے سپریم کورٹ لاہور میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے روبرو پیش ہوئے۔ اس موقع پر چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیے کہ حسین نقی کی داد رسی کے لیے حاضر ہیں، وہ استاد ہیں تو میرے بھی استاد ہیں، کوئی انا نہیں، مجھے بھی حسین نقی کا احترام ہے۔

اس بیان کے لیے میں چیف جسٹس صاحب کو بھی سراہتی ہوں کہ انہوں نے اس معاملے کو انا کا مسئلہ بنائے بغیر یہ بیان جاری کیا!

شراکت دار: صائمہ نعیم

Editorial Desk
EditorialDesk
Leave a Reply

Your email address will not be published.